کے پاس رہتے ہیں تو ہماری ایمانی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور جب گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوتے ہیں تو کچھ اورہوتی ہے۔ آپ کے پاس رہتے ہوئے ہمارا ایمانی جوش وجذبہ کچھ زیادہ ہوتا ہے جب کہ آپ کی محفل سے نکلنے کے بعد اس جذبے میں کمی آجاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اےحنظلہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) !اگر تم ایک ہی جیسے حال میں ہمیشہ رہو (وہ ایمانی کیفیت ہمیشہ برقراررہے جومیرے پاس رہنے سے طاری ہوتی ہے) توفرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں یعنی تم فرشتوں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ لیکن اے حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !چند گھڑیاں یوں ہوتی ہیں اور چند گھڑیاں کچھ اس سے مختلف ہوتی ہیں۔ (تم انسان ہو، فرشتے نہیں یقینًا تمہاری کیفیت فرشتوں سے مختلف ہوگی۔ تمہاری چند گھڑیاں سنجیدگی اور حد درجہ ایمانی کیفیت میں گزرتی ہیں، تو چندگھڑیاں اس سے مختلف۔ ہنسی مذاق اور پر لطف ماحول میں بھی گزریں گی۔ )
حقیقت یہ ہے کہ چہرے پر خشونت اور باتوں میں روکھا پن لیے ہوئے بعض دین دار حضرات محض اپنی طبیعت اور فطرت کی وجہ سے ایسے ہوتے ہیں۔ اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے دین دارحضرات سے اسلام سیکھنے کے بجائے قرآن مجید آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بہترین عملی نمونوں سے اسلام سیکھیں۔
اب ذرا ان دلیلوں پرنظر ڈال لیں جوآپ نے اپنے سوال میں پیش کی ہیں۔
1۔ پہلی حدیث میں باکثرت اور بہت زیادہ ہنسنے سے منع کیا گیا ہے۔ صرف ہنسنے کی ممانعت نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی زیادہ مضر ہوتی ہے۔ خواہ ہنسنے کی زیادتی ہویا رونے کی یا کسی اور چیز کی۔
2۔ یہ حدیث کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ غم کی کیفیت طاری رہتی تھی۔ ایک ضعیف حدیث ہے اور اسے بطورِدلیل نہیں پیش کیا جاسکتا۔ بلکہ اس کے برعکس بخاری شریف کی کی صحیح حدیث یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعاؤں میں حزن وغم سےاللہ کی پناہ مانگا کرتے