فهرس الكتاب

الصفحة 228 من 328

چھوٹ کو قبول کرو۔ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں بھول چوک کی وجہ سے خاموش نہیں رہا۔''

اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر غضب ناک ہوتا ہےجو اپنی مرضی سے چیزوں کو حلال یا حرام قراردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلالا قُلْ آللّٰهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُونَ" (یونس:59)

''اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہو تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ رزق اللہ نے تمہارے لیے اتاراتھا اس میں تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا ۔ ان سے پوچھو کہ کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی ؟یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟''

قرآن و حدیث کے ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ دینی احکام میں آسانیوں کی طرف مائل ہونا اور چیزوں کو حلال قرار دینے میں دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہی اسلام کا موقف ہے اور یہی اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہی معاملات میں لوگوں کی ضرورتوں زمانے اور علاقے کے حالات اور مزاج کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے مسائل میں سختیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ بات غیر مسلموں کے سامنے ہمارے دین کی غلط تصویر پیش کرتی ہے۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی صراحت کی ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ گانے والی لڑکیوں کو گانا گانے پر ڈانٹا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بیٹھ کر تم یہ حرکت کر رہی ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روکا اور فرمایا:کہ انھیں خوشی کے موقع پر گانے دو۔ ذرا یہودی قوم بھی دیکھ لے کہ ہمارے دین میں تفریح کی گنجائش اور وسعت ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک عالم دین نے بھی مجھ پر اسی قسم کا اعتراض کرتے ہوئے مقالہ لکھا تھا لیکن ان کا انداز بہت غیر شائستہ اور تنقیدی آداب و اصول سے محروم تھا۔ ان کے مقالے کو پڑھ کر لگا کہ موصوف کو نہ قرآن کا صحیح علم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت