ہے اور نہ حدیث کا اور نہ علم فقہ پر ہی انھیں کوئی خاص دسترس ہے۔ وہ اصلًاہندوستان کے رہنے والے حنفی المسلک تھے۔ ان کا دعوی تھا کہ تمام علمائے کرام نے متفقہ طور پر شطرنج کو حرام قراردیا ہے اور اس کا کھیلنا گناہ کبیرہ ہے۔
موصوف کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ خود حنفی مسلک میں اس کھیل کو اس وقت تک حرام نہیں قرار دیا گیا جب تک کہ اس میں جوانہ شامل ہو۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے میں شطرنج کے سلسلے میں چاروں مسلک کی رائے بیان کر دوں۔
(1) احناف کی معتبر فقہی کتاب قدوری اور ہدایہ کے مطابق وہ شخص جو شطرنج میں جوا کھیلتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ اس لیے کہ جواکھیل کر اس نے حرام کام کیا ہے۔
محض شطرنج کھیلنا کوئی ایسا برا کام نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی شہادت ٹھکرادی جائے۔
(2) امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الروضہ میں شافعی مسلک کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ شطرنج کھیلنا بعض لوگوں کے نزدیک مکروہ ہے بعض کے نزدیک جائز اور اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ جو لوگ اسے مکروہ کہتے ہیں ان کے نزدیک مکروہ تنز یہی ہے۔ آگے مزید لکھتے ہیں۔ اگر شطرنج میں جوا کھیلا جائے یا اس کی وجہ سے نماز میں غفلت ہو جائے یا کسی فحش کام کا ارتکاب ہو جائے تو پھر یہ گناہ ہے۔ ایسے شخص کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔
(3) امام ابن رشد اس سلسلے میں امام مالک کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''امام مالک سے شطرنج کے سلسلے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ بہت اچھا کام نہیں ہے۔ لیکن اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ یہ اور کھیلوں کی طرح محض کھیل تماشے کی چیز ہے۔ البتہ باریش دین داراور بڑی عمر کے لوگوں کو یہ کھیل زیب نہیں دیتا ۔''
(4) ابن قدامہ اپنی کتاب"المغنی"میں حنبلی مسلک کی وضاحت کرتے لکھتے ہیں ہر وہ کھیل جس میں جوا شامل کر لیا جائے حرام ہے۔ اور جس میں جوا شامل نہیں