فهرس الكتاب

الصفحة 230 من 328

ہے وہ کھیل حلال بھی ہو سکتا ہے اور حرام بھی۔ رہا شطرنج تو بغیر جوئے کے بھی حرام ہے۔

یہ ہیں چاروں مسلک کے اقوال بعض اسے جائز قراردیتے ہیں۔ بعض مکروہ اور بعض کے نزدیک یہ حرام ہے۔ گویا یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اور اختلافی مسئلے میں کسی بھی ایک رائے کو اختیار کرنے کی مکمل اجازت ہوتی ہے۔

جو لوگ شطرنج کو حرام قراردیتے ہیں ان کے دلایل حسب ذیل ہیں:

(1) ارشاد ربانی:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ" (المائدہ:90)

''اے ایمان والو! یہ شراب اور جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو۔''

(2) ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

"إن اللّٰه عز وجل ينظر في كل يوم ثلاثمائة وستين نظرة ليس لصاحب الشاه فيها نصيب"

''اللہ تعالیٰ ہر دن تین سو ساٹھ دفعہ اپنے بندوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اس میں سے کوئی بھی نظر بادشاہ والے (شطرنج کھیلنے والے) کے لیے نہیں ہے۔''

"ألا إن أصحاب الشاه في النار الذين يقولون قتلت واللّٰه شاهك"

''سن لو!بادشاہ والے (شطرنج کھیلنے والے) جہنم میں جائیں گے۔ جو یہ کہتے ہیں بہ خدا میں نے تمہارے بادشاہ کو مار ڈالا۔''

"ملعون من لعب بالشطرنج"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت