فهرس الكتاب

الصفحة 28 من 328

میرا خیال ہے کہ اسلام اور اہل اسلام پر اجنبیت اور بے وقعتی کا دور آتا جا تا رہے گا ۔ جیسا کہ تمام مذاہب اور ملتوں کے ساتھ ہو تا آیا ہے۔ یہی اللہ کی سنت اور طریقہ کار ہے۔ اللہ کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور نہ قوموں اور ملتوں کو دو پیمانوں سے ہی ناپتی ہے اللہ کی سنت سب کے لیے ایک جیسی ہے۔ اللہ کی سنت ہے کہ ہر مذہب و ملت پر عروج و زوال آتا جاتا رہے گا۔ اور یہی معاملہ اسلام کے ساتھ بھی ہو گا۔

اس حدیث میں محض یہ پیش گوئی ہے کہ اسلام پر کبھی ایسا دور بھی آئے گا جب اسلام بے وقعت کمزور اور گم نام ہو کر رہ جائے گا۔ اس میں اس بات کا ذکر کہیں بھی نہیں ہے کہ تاقیامت اسلام اسی طرح بے وقعت اور کمزور رہے گا اور نہ اس حدیث میں اس بات کی ہی تعلیم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کی وجہ سے مقدر سمجھ کر ہم مایوس ہو کر بیٹھ رہیں۔ بلکہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں کامیاب اور جنتی وہ لوگ ہوں گے جو اسلام کی بعض قوت و عظمت کی بحالی اور اس کے اقتدار کو واپس لانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں گے۔ بعض روایتوں میں غرباء کی تشریح فرماتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اصلاح معاشرہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے اور برائیوں کو دور کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ غرباء کی یہ قلیل سی تعداد مایوس ہو کر گھر بیٹھ جانے والوں میں سے نہیں ہو گی بلکہ یہ لوگ قوم و ملت کے معمار ہوں گے اور اسلام کی عظمت و رفعت واپس لانے کے لیے حددرجہ جدو جہد کرنے والے ہوں گے ایک دوسری روایت میں ہے کہ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ غرباء کون ہیں جن کے لیے بشارت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ"

'' یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب لوگ بگڑ چکے ہوں گے تو ان میں اصلاح کاکام کریں گے۔''

ایک دوسری روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ناس صالحون في ناس سوء كثير"

'' بہت سارے لوگوں کے درمیان یہ تھوڑے سے نیک اور صالح لوگ ہوں گے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت