فهرس الكتاب

الصفحة 29 من 328

اس توضیح سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث مایوسی اور بے علمی کی دعوت نہیں دیتی نہ اس میں اس بات کی ہی پیشین گوئی ہے کہ اسلام کا ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا۔

بلکہ محض اس بات کا بیان ہے کہ اسلام پر ایسا دور بھی آئے گا جب اسلام اور اہل اسلام اجنبی اور کمزور بن کر رہ جائیں گے لیکن بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو اجنبیت اور بے وقعتی کے اس دور میں اصلاح معاشرہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

رہا آپ کا یہ سوال کہ کیا قرآن و سنت میں اس بات کے دلائل ہیں کہ اسلام کو ایک بار پھر قوت و غلبہ نصیب ہو گا؟ تو آپ جان لیں کہ قرآن و سنت میں اس کے بہت سے دلائل ہیں۔

ارشاد الٰہی ہے:

"هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ" (التوبہ:33)

'' وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ یہ کتنا ہی ناگوارہو۔''

اسی مفہوم کی دوسری آیتیں سورہ فتح اور سورہ صف میں بھی ہیں۔ احادیث میں اسلام کے دوبارہ غالب آنے کی بہت سی بشارتیں ہیں۔ میں صرف چند کے بیان پر اکتفا کروں گا۔

"إِنَّ اللّٰهَ زَوَى لِي الارْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا"

'' اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹا تو میں نے اس کے مشرق و مغرب

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت