فهرس الكتاب

الصفحة 284 من 328

رہتے ہیں اور کم ازکم اتنا بھی نہیں کرتے کہ ظلم کی بستی سے ہجرت کر جائیں:

"إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَـٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا" (النساء:97)

''جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کرر ہے تھے، ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ برا ٹھکانا ہے۔''

اللہ لعنت بھیجتا ہے ایسے لوگوں پر جو معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں پر خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں اور انھیں دور کرنے کی ذرہ برابر فکر نہیں کرتے۔ اللہ فرماتا ہے:

"لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ {78} كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ" (المائدہ:79۔ 78)

''بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی، ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو برے کاموں سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ بہت برا طرز عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا تھا۔''

اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ برائیاں صرف چوری شراب اور زنا وغیرہ کانام ہے تو یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ برائی یہ بھی ہے کہ معصوم اور بے گناہ افراد کو جیلوں میں ڈال دیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت