جائےاور ان پر سختی کی جائے۔ برائی یہ بھی ہے کہ الیکشن کے موقع پر ووٹوں کی دھاندلی کی جائے۔ برائی یہ بھی ہے کہ ووٹ ڈالنے سے پرہیز کیا جائے۔ برائی یہ بھی ہے کہ عوام کے پیسوں پر ناجائز قبضہ کر لیا جائے جیسا کہ آج کل کے سیاسی لیڈر ان کرتے ہیں اور برائی یہ بھی ہے کہ اس مالی غبن پر خاموش رہا جائے اور اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے۔ برائی یہ بھی ہے۔ کہ سیاسی معاملات میں دلچسپی نہ لے کر سیاست اور حکومت کی مکمل باگ ڈور ظالموں اور کافروں کے ہاتھ میں دے دی جائے یہ اور اس طرح کی بے شمار برائیاں ہیں جن کا تعلق سیاسی امور سے ہے اور ناممکن ہے کہ کوئی غیرت مند دین دار مسلمان ان برائیوں پر خاموش رہے اور کچھ نہ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"إذا رأيت أمتي تهاب أن تقول للظالم يا ظالم فقد تودّع منهم"
''جب تم میری امت کو دیکھو کہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہو تو پھر اسے الوداع کہہ دو (یعنی ایسی امت کا خاتمہ قریب ہے) ۔''
بلا شبہ یہ ایمان کا تقاضا ہے کہ مومن شخص معاشرے اور ملک میں پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کرنے کے لیے جدوجہد کرے۔ خواہ یہ برائیاں سماجی ہوں یا ثقافتی یا سیاسی، ناممکن ہے کوئی شخص مومن ہونے کا دعویٰ کرے اور ان برائیوں کو پھلتا پھولتا دیکھے اور مطمئن رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا, فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وذلك أضعف الإيمان" (مسلم)
''تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو چاہیے کہ اپنی قوت و طاقت سے اسے دور کرے۔ ایسانہیں کر سکتا تو اپنی زبان سے دور کرے۔ ایسا بھی نہیں کر سکتا تو اپنے دل سے دور کرے (یعنی دل میں اسے برا سمجھے ) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔''
عین ممکن ہے کہ اکیلا شخص برائیوں کے اس طوفان کا مقابلہ نہ کر سکے خاص کر جب کہ