فهرس الكتاب

الصفحة 286 من 328

ملک کے سیاست دان اور ارباب حل وعقد ہی ان برائیوں میں ملوث ہوں۔ اس صورت حال میں صحیح طریقہ کاریہ ہوگا کہ بہت سارے افراد مل کر اجتماعی طور پر ان برائیوں کا مقابلہ کریں۔ یہ اجتماعی کوشش کسی آزاد تنظیم یا کسی سیاسی پارٹی کی بنیاد ڈال کر بھی کی جا سکتی ہے۔ بلا شبہ یہ سارے کام سیاسی کام ہیں اور مذکورہ حدیث کے مطابق ایمان کا عین تقاضا ہیں۔

آج کے جمہوری دور میں معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں کے خلاف مزاحمت کرنا یا حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا اور ان کے خلاف آواز بلند کرنا کسی بھی شخص کا جمہوری حق تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ دین اسلام اس حق کو صرف حق ہی نہیں بلکہ واجب قراردیتا ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ مومن اپنے ملک کے سماجی اور سیاسی حالات سے مکمل اور مستقل باخبر رہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی سے اور ان مسائل کے حل کے لیے ہمہ تن کوشاں رہے۔ ذراحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور کریں:

"من لم يهتم بأمر المسلمين فليس منهم"

''جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتا اور ان کی فکر نہیں کرتا وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔''

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی موت کو جہالت کی موت قراردیا ہے جو سیاست سے کنارہ کش ہو جائے اور کسی قائد یا حکمران کی تائید و حمایت کے لیے کمر بستہ نہ رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"من مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية" (مسلم)

''جو شخص اس حالت میں وفات پائے کہ اس کی گردن میں کسی قائد کی بیعت نہ ہو (یعنی وہ کسی قائد کا حامی نہ ہو) تو وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔''

اس حدیث کی روشنی میں یہ بات بآسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ سیاسی معاملات میں کسی ایسے حکمران، قائد یا لیڈر کی حمایت و نصرت ضروری ہے جو مسلمانوں کے معاملات میں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت