فهرس الكتاب

الصفحة 287 من 328

دلچسپی لیتا ہو۔ انھیں حل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہو اور دین اسلام کے غلبے کے لیے فکر مند رہتا ہو۔ یہ نری جہالت و گمراہی ہے کہ انسان اپنے ارد گرد رونما ہونے والے سیاسی اور سماجی معاملات سے بے خبر ہو کر زندگی گزارے اور اسی حالت میں مرجائے۔

جو لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ دین کو سیاست سے الگ کر کے رکھنا چاہیے وہ دراصل قرآن و حدیث کی صریح اورواضح تعلیمات سے بے خبر ہیں۔ اگر وہ مذکورہ قرآنی آیات واحادیث پر غور کریں گے تو انھیں معلوم ہوگا کہ دین سے سیاست کو الگ کرنا جہالت وگمراہی ہے۔ بلکہ سیاسی مسائل سے بے خبر رہنا اور سیاسی برائیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی کوشش نہ کرنا امت مسلمہ کے حق میں گناہ ہے۔

دین کا سیاست سے اس قدر گہراتعلق ہے کہ عین نماز کی حالت میں قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے جن میں سیاسی مسائل سے بحث کی گئی ہے، مثلًا وہ آیتیں جن میں مسلم دشمن حکمرانوں کی تائید و نصرت کی ممانعت ہے یا جن میں دنیوی معاملات کو اللہ کے قوانین کے مطابق حل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے یا جن میں جنگوں کا تذکرہ ہے وغیرہ غیرہ۔ اسی طرح عین نماز کی حالت میں دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے ۔ یہ دعائے قنوت اس وقت پڑھی جاتی ہےجب مسلمانوں پر کسی قسم کی دنیوی یا آسمانی مصیبت نازل ہوتی ہے مثلًا جنگ کی حالت ہو یا مسلمانوں پر کسی قسم کا سیاسی عذاب مسلط ہو جائے یا قحط اور زلزلہ جیسی ناگہانی آفتیں ہوں۔ اس دعا میں ان مسائل کا تذکرہ کر کے ان سے عافیت کی دعا کی جاتی ہے۔

اس پوری تفصیل اور وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے تو یہ سراسرہٹ دھری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ دین کو سیاست سے الگ کرنے کی باتیں کرتے ہیں وقت پڑنے پر یہی لوگ دین کا سہارا لے کر دین داراور اسلام پسند لوگوں کے خلاف انتقامی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت