فهرس الكتاب

الصفحة 291 من 328

منافی ہے؟ کیا قرآن و سنت سے ایک بھی ایسی دلیل پیش کی جا سکتی ہے جو اس جمہوریت کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قراردے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ جمہوریت اسلام کے منافی نہیں ہے بلکہ عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ اسلام اس بات کا شدید مخالف ہے کہ لوگوں کی قیادت اور امامت کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں سونپ دی جائے جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ چاہے یہ پورے ملک کی قیادت ہویا نماز کے لیے ایک جماعت کی امامت ہو۔ حدیث شریف ہے:

"ثَلَاثَةٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ شِبْرًا ؛ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ" (ابن ماجہ)

''تین لوگ ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سرسے اوپر ایک بالشت نہیں جاتی ان تینوں میں سے ایک شخص وہ ہے جو نماز کی امامت کرے اور لوگ اس کی امامت کو ناپسند کرتے ہوں۔''

ذرا غور کریں کہ اسلام نماز باجماعت میں چند لوگوں کی قیادت کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں دینے کے خلاف ہے جسے اکثریت ناپسند کرتی ہوتو پورے ملک کی قیادت کسی ایسےشخص کے ہاتھ میں دینا اسے کیسے گوارا ہوگا جسے اکثریت پسند نہ کرتی ہو۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُم ْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُ مْ وَتَلْعَنُونَهُ مْ وَيَلْعَنُونَكُ " (مسلم)

''تمہارے اچھے فرماں رواہ وہ ہیں جنھیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہوں اور تم ان کے لیے دعائیں کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے ہوں۔ اور تمہارے برے فرماں رواہ وہ ہیں جن سے تم نفرت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت