کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہوں اور تم انھیں لعن طعن کرتے ہو اور وہ تمہیں لعن طعن کرتے ہوں۔''
پورا قرآن پڑھا جائیے ۔ جابجاآپ کو اللہ کا قہران حکمرانوں پر ٹوٹتا نظر آئے گا جو اللہ کے بندوں پر ظلم و فساد برپا کرتے ہیں۔ قرآن میں متعدد مقامات پر فرعون، نمرود، ہامان اور عادوثمود کا تذکرہ اسی غرض و غایت کے تحت ہوا کہ ان لوگوں نے اللہ کی زمین پر ظلم و فساد برپا کیا تو اللہ نے ان کی زبردست پکڑ کی۔ ملاحظہ ہوسورہ فجر کی مندرجہ ذیل آیتیں:
"أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ {6} إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ {7} الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ {8} وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ {9} وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ {10} الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ {11} فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ {12} فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ {13} إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ" (الفجر:6۔ 14)
'' تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا اونچے ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی۔ اور ثمود کے ساتھ، جنھوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں۔ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ جنھوں نے ملکوں میں سرکشی اختیا رکی تھی۔ اور ان میں بڑا فساد پھیلایا تھا۔ آخر کار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا، حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہے۔''
قرآن صرف انھی ظالم حکمرانوں کی سرزنش نہیں کرتا بلکہ اللہ کی نظر میں وہ عوام الناس (پبلک) بھی مجرم اور قصوروار ہیں جو ان ظالم حکمرانوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے:
"وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ"