فهرس الكتاب

الصفحة 293 من 328

جَبَّارٍ عَنِيدٍ" (ھود:59) "

''یہ ہیں عاد، اپنے رب کی آیات سے انھوں نے انکار کیا۔ اس کے رسولوں کی بات نہ مانی اور ہر سرکش اور ظالم و جابر کی پیروی کی۔''

وہ فوج بھی اللہ کی نظر میں قصور وار ہے جسے ظالم حکمران عوام الناس پر ظلم واستبداد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ اللہ فرماتا ہے:

"إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ" (القصص:8)

''بلا شبہ فرعون وہامان اور ان کی فوج غلطی پر تھے۔''

قرآن کے علاوہ صحیح احادیث میں بھی ان ڈکٹیٹرقسم کے حکمرانوں کے لیے زبردست وعید ہے جو عوام الناس پر ظلم کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"إن في جهنم واديًا في الوادي بئر يقال لها هبهب، على اللّٰه أن يسكنه كل جبار" (طبرانی حاکم)

''جہنم میں ایک وادی ہے اس وادی میں ایک کنواں ہے جس کا نام ہبہب ہے۔ اللہ نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہے کہ اس میں ان لوگوں کو ڈالے گا جو ظالم و جابر ہیں۔''

کون نہیں جانتا کہ اسلامی نظام حکومت میں شوریٰ کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ شوریٰ یہ ہے کہ عوام ا لناس (پبلک) میں سے چند ایسے افراد منتخب ہوں جو باصلاحیت اور تجربہ کارہوں تاکہ حاکم وقت کارہائے سیاست چلانے میں ان سے مشورے لیتا رہے۔ شوریٰ کی طرح عوام ا لناس بھی اس بات کے پابند ہیں کہ اپنے سیاست دانوں اور حکمرانوں کو مفید مشورے دیتے رہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ:"الدين النصيحة" (دین نصیحت ہے) اس حدیث کے الفاظ کے مطابق یہ نصیحت حکمرانوں کے لیے بھی ہے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے عمدہ مشورے اپنے حکمرانوں تک

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت