فهرس الكتاب

الصفحة 294 من 328

پہنچاتے رہیں اور اگر انھیں غلطی پر دیکھیں نصیحت کریں۔ بلکہ حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے افضل جہاد سے تعبیر کیا ہے۔

"أفضل الجهاد كلمة حق تقال عند سلطان جائر"

''سب سے افضل جہاد کسی ظالم حکمراں کے سامنے حق بات کہنا ہے۔''

اللہ تعالیٰ کو یہ بات نہایت پسند ہے کہ ظالم حاکموں کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کیا جائے اور حکومت چلانے کے لیے انھیں بہتر پالیسیوں سے باخبر کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین نے مسند خلافت پر بیٹھنے کے معًابعد جو خطبہ دیا تھا اس میں اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ کیا تھا۔ مثلًا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تقریر کی تھی اس میں یہ بات کہی تھی:

"أيها الناس! إني قد وُلِّيتُ عليكم ولستُ بخيركم، فإن رأيتموني على حق، فأعينوني، وإن رأيتموني على باطل فَسَدِّدُوني"

''اے لوگو!میں تمہارا سربراہ مقرر کیا گیا ہوں حالانکہ میں سب سے بہتر شخص نہیں ہوں ۔ اگر تم مجھے حق پر دیکھو تو میری مدد کرنا۔ اور اگر غلطی پر دیکھو تو مجھے سیدھا راستہ دکھانا۔''

اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کچھ اسی طرح کی بات کہی تھی:

"أيها الناس من رأى منكم فيّ اعوجاجًا فليقومه"

''اے لوگو!تم میں سے جو میرے اندر کجی پائے تو وہ مجھے ٹھیک کردے۔''

کسی بھی محفل میں جب کسی عورت نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کسی بات پر ٹوکا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"أصابت امرأة و أخطأ عمر"

''عورت نے ٹھیک بات کہی اور عمر ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے غلطی ہو گئی۔''

آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ موجودہ جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ اسلامی نظام حکومت سے بہت مختلف نہیں ہے۔ موجودہ جمہوریت میں بھی عوام میں سے چند لوگ منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں جاتے ہیں۔ سر براہ مملکت ان ممبران پارلیمنٹ کے مشورے سے کارہائے حکومت انجام دیتا ہے۔ عوام ا لناس (پبلک) کو اختلاف رائے کا حق

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت