حاصل ہوتا ہے انھیں اس بات کا بھی حق حاصل ہوتا ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کریں اور اپنے مفید مشوروں کے ذریعے سے حکومت کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مدد کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے جمہوریت کے لیے بنیادی اصول پہلے ہی فراہم کر دئیے تھے۔ اور باقی رہیں اس کی تفصیلات اور جزئیات تو یہ لوگوں کے صواب دید پر چھوڑدیا کہ وہ اپنے زمانے کی ضرورتوں اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق طے کر لیں۔
موجودہ دور کے انسان نے ڈکٹیٹراور ظالم و جابر حکمرانوں اور بادشاہوں کے خلاف طویل جنگ کے بعد ایک ایسا نظام حکومت تلاش کیا ہےجسے انھوں نے جمہوریت کا نام دیا ہے اور جس میں عوام ا لناس کو ظالم حکمرانوں کے جنگل سے آزاد کرنے اور انھیں بنیادی حقوق دلانے کی پھر پور کوشش کی گئی ہے۔
جمہوریت کو جمہوریت کا نام عطا کرنے والے اور اس کے اصول وقواعد واضع کرنے والے اگرچہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہیں لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ہم غیر قوموں سے اچھی باتیں سیکھیں اور انھیں اختیار کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے کہ حکمت ودانائی کی باتیں مومن کی گم شدہ دولت ہے جہاں سے انھیں یہ دولت مل جائے انھیں اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ حکمت و دانائی کی باتیں اور نفع بخش چیزیں اگر ہمیں غیر مسلموں سے ملتی ہیں تو انھیں اختیار کرنا چاہیے یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اور اسی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا عمل تھا۔ چنانچہ غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودکر جنگ کرنےکا طریقہ انھوں نے غیر مسلموں سے سیکھا اور جنگ بدر کے جنگی قیدیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر رہائی عطا کی کہ وہ مسلمان کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں گے۔ غیر مسلموں سے لکھنا پڑھنا اور دوسری مفید باتیں ان سے سیکھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہمیں جہاں سے بھی اچھی اور نفع بخش باتیں حاصل ہوں انھیں اختیار کرنے میں ہی ہماری بھلائی ہے۔ اس بنیاد پر