میں ہمیشہ اپنے اس موقف کا اظہار کرتا آیا ہوں کہ غیر قوموں کے اچھے خیالات، بہتر طرز رہائش، مفید ٹکنالوجی اور نفع بخش قوانین و ضوابط کو اختیار کرنا ہمارے حق میں بہتر ہے بشرطیکہ یہ خیالات اور قوانین قرآن و حدیث اور اسلام کے بنیادی اصول وضوابط کے خلاف نہ ہوں۔
موجودہ جمہوریت کے اصول و ضوابط پر غور کریں تو اس میں وہ بہت ساری باتیں ملیں گی جن کی اسلام نے تعلیم دی ہے، صرف نام کا فرق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ موجودہ جمہوریت میں الیکشن اور ووٹنگ وہی چیز ہے جسے اسلامی قانون میں شہادت کا نام دیا گیا ہے۔ شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ اچھے لوگوں کے حق میں گواہی دی جائے کہ وہ اچھے ہیں۔ ووٹنگ بھی اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ باصلاحیت لوگوں کے حق میں گواہی دی جائے اور اپنی اس رائے کا اظہار کیا جائے کہ یہ لوگ حکومت چلانے کے لیے مناسب افراد ہیں۔ اسلام کی نظر میں شہادت نہ دینا اور اسے چھپانا جس طرح گناہ ہے میرے خیال میں ووٹ نہ ڈالنا بھی اسی طرح گناہ ہے۔ کیونکہ اگر ووٹ کے زریعے سے اچھے لوگوں کو حکومت میں لانے کی کوشش نہ کی گئی تو یقینًا حکومت میں وہ لوگ آجائیں گے جو عوام اور ملک دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ اللہ کا فرمان ہے:
"وَلاَ تَكْتُمُواْ الشهادة وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُه" (البقرۃ:283)
''اور گواہی نہ چھپاؤ جو شخص گواہی چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہے۔''
جس طرح شہادت کو چھپانا گنا ہ ہے اسی طرح یہ بھی گناہ ہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں شہادت یا وووٹ دیا جائے جو نا مناسب اور غلط قسم کے ہوں ۔ ایسے لوگوں کے حق میں ووٹ دینا فرض ہے جو عدل و انصاف کے علمبردار ہیں۔ ملاحظہ ہو اللہ کا یہ فرمان:
"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ" (الطلاق:2)
''اور تم اپنے میں سے دوصاحب عدل لوگوں کو گواہ بناؤ۔''
اسی طرح ہمیں اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ شہادت یا ووٹ اس بنا پر نہ