دیں کہ فلاں ہمارا رشتہ دار ہے یا ہمارے علاقہ کا ہے یا ہماری پارٹی کا ہے ۔ بلکہ صرف اللہ کی خاطر ووٹ دیں۔ اور ایسے لوگوں کے حق میں دیں جو اچھے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے:
"وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ للّٰهِ ۚ" (الطلاق:2)
''اوراللہ کی خاطر گواہی قائم کرو۔''
اسی طرح موجودہ جمہوریت میں ہم جس چیز کو پارلیمنٹ کہتے ہیں اسلامی اصطلاح میں اس کا نام شوریٰ ہے۔ اسی طرح موجودہ جمہوریت میں آزادی رائے انسانی حقوق، ہر خاص و عام کے لیے یکساں قانون اور یکساں عدل و انصاف اور اس طرح کے بے شمار ایسے اصول وقوانین ہیں جنھیں اسلامی شریعت نے بھی اسی قدر اہمیت دی ہے۔ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت میں عوام الناس کی حاکمیت ہوتی ہے جب اسلام صرف اللہ کی حاکمیت کا قائل ہے ان کا اعتراض ہی بے بنیاد ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں عوام الناس کی حاکمیت کے دعویٰ کا مطلب خدا کی حاکمیت سے اعلان آزدی نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ ڈکٹیٹر قسم کے حکمرانوں کے ہاتھوں سے زمام حکومت چھین کر عوام الناس کے ہاتھوں میں سونپ دی جائے۔ تاکہ چند ڈکٹیٹر قسم کے لوگ عوام الناس کی تقدیر کے مالک بن کر ان پر ظلم و جورنہ کر سکیں۔
عوام الناس کی حاکمیت کا مفہوم یہ ہے کہ عوام الناس اپنی مرضی سے اچھے لوگوں کا انتخاب کر سکیں اور انتخاب کے بعد اگر یہ لوگ غلط راستہ اختیار کرتے ہیں تو ان کی غلطیوں پر محاسبہ کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے منصب سے انھیں بر طرف بھی کر سکیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اسلامی قوانین یا اللہ کی حاکمیت کے خلاف ہو۔ اللہ کی حاکمیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ ہی اس تمام کائنات کا مدبراور منتظم ہے۔ ساری کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے اور اسی کے اشارہ پر سب کچھ ہوتا ہے۔ ایک پتا بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا ۔ اللہ کی حاکمیت کا مفہوم یہ بھی ہے کہ حلال و حرام اور صحیح و غلط کا فیصلہ کرنا اللہ کاکام ہے۔ اللہ نے جسے حلال قراردیا اسے کوئی حرام نہیں قراردے سکتا اور اللہ نے جس چیز کو