النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ" (یونس۔ 99) "
''تمہارا رب چاہتا تو زمین کے سارے لوگ ایمان لے آتے۔ کیا تم لوگوں کے ساتھ زورزبردستی کرنا چاہتے ہو تاکہ وہ ایمان لے آئیں؟''
3۔ کسی بھی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کافر کے کفر کامحاسبہ کرے یا اسے اس کی گم راہی کی سزادے۔ نہ تو یہ اس کی ذمہ داری ہے اور نہ یہ دنیا اس لیے بنائی ہی گئی ہے۔ یہ اللہ کاکام ہے اور اللہ نے اس کے لیے آخرت بنائی ہے جہاں کافروں کو ان کے کفر کی سزا ملے گی۔ اللہ کا فرمان ہے:
"فَلِذَٰلِكَ فَادْعُ ۖ وَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ۖ وَقُلْ آمَنتُ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ مِن كِتَابٍ ۖ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ ۖ اللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ" (الشوریٰ:15)
'' اس لیے اے نبی! تم اس دین کی طرف دعوت دو اور ثابت قدم رہو جیسا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور کہو کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اس کی طرف سب کو جانا ہے۔''
4۔ ہرمسلم کایہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے عدل وانصاف اوراخلاق حمیدہ کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بد اخلاقی اور ظلم وزیادتی کی تعلیم نہیں دے سکتا۔ خواہ معاملہ کافروں کے ساتھ ہو۔ اللہ تعالیٰ ظلم وزیادتی اور حق تلفی کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ اللہ فرماتاہے: