"وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ" (المائدہ:8)
''اورکسی قوم کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم عدل وانصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو یہ خداترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔''
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
"دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ وَإِنْ كَانَ كَافِرًا فَإِنَّهُ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ" (مسند احمد)
''مظلوم خواہ کافر ہو اس کی پکارکے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ (اس کی پکار فورًا خداتک پہنچتی ہے) ۔''
یہ ہیں اسلام کے چند بنیادی اصول ۔ ان اصولوں کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے سلسلے میں اسلام کا کیا موقف ہے؟اسلام کی نظرمیں غیر مسلموں کی دو قسمیں ہیں:
1۔ غیر مسلموں کی ایک قسم وہ ہے جن کا دین آسمانی ہے اور جنھیں ہم اہل کتاب کہتے ہیں مثلًا یہودی اورعیسائی۔
2۔ غیر مسلموں کی دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کا دین خود ان کا وضع کردہ ہے اور ان میں بت پرستی پائی جاتی ہے۔ مثلًا ہندو جو کہ بت پوجتے ہیں یا مجوسی جو کہ آگ پوجتےہیں۔
اسلامی شریعت میں دوسری قسم کے غیر مسلموں کے مقابلہ میں پہلی قسم کے غیر مسلموں کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ چنانچہ اسلام نے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال قراردیا ہے اور ان کی عورتوں سے شادی جائز قراردی ہے:
"وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ (المائدہ:5) "