''اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔''
ان کی عورتوں سے شادی کی اجازت کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سارے سسرالی رشتہ دار اہل کتاب ہیں اور اس کے بچے کے ماموں خالہ نانا نانی وغیرہ بھی اہل کتاب ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں تسامح اور رواداری کی یہ عظیم ترین مثال ہے۔
ایک دوسرے زاویہ سے غیرمسلموں کی دو قسمیں ہیں۔
1۔ ایک قسم ان غیر مسلموں کی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے تئیں کھلم کھلا دشمنی رکھتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انھیں تباہ وبرباد کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
2۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں سے کوئی بیر نہیں رکھتے اور نہ ہی انھیں نقصان پہنچانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ نارمل طریقہ سے اور دوستانہ ماحول میں زندگی گزارتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان دونوں کے سلسلے میں اسلام کا موقف ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی مسلمان ان دونوں قسم کے غیر مسلموں کے ساتھ ایک ہی جیسا برتاؤ کرتا ہے تو وہ انتہائی غلطی پر ہے۔
پہلی قسم کے غیر مسلموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کسی قسم کی موالات، دوستی، ہمدردی اور میل ملاپ سے منع فرمایا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے ساتھ دشمنی اورجنگ پر آمادہ ہیں اور ہمارا وجود انھیں برداشت نہیں ہے۔ جب کہ دوسری قسم کے غیرمسلموں کےساتھ ہمیں حسن سلوک اور عدل وانصاف پر مبنی معاملہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ کیونکہ ان کا سلوک بھی ہمارے ساتھ معاندانہ نہیں بلکہ دوستانہ ہے۔ ذیل کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کردیا ہے ان دونوں قسم کے غیر مسلموں کے ساتھ ہمارارویہ کیسا ہونا چاہیے۔