"لَّا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ {8} إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ" (الممتحنہ:8۔ 9)
''اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انصاف کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو اس بات سے تمہیں روکتا ہے کہ تم ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور گھر سے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ جو لوگ اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے وہی لوگ ظالم ہیں۔''
کسی اسلامی ملک کے اندر رہنے والی غیر مسلم اقلیت کو اسلامی شریعت کی اصطلاح میں اہل ذمہ کہتے ہیں۔ اہل ذمہ کا مفہوم یہ ہے کہ غیر مسلم اللہ، رسول اور مسلمانوں کی پناہ میں ہیں۔ اب ان کی حفاظت کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کے عوض ان پرجزیہ فرض کیا ہے، جسے وہ مسلم حکومت کو ادا کریں گے۔ [1]
بعض غیرمسلمین لفظ جزیہ کو اپنی توہین محسوس کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس لفظ کو بدل دیا جائے کیونکہ اس میں حقارت کی بوآتی ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں بعض عیسائیوں نےمطالبہ کیا تھا۔ وہ ٹیکس دینے کے لیے تیار تھے لیکن جزیہ کے نام پرنہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے مطالبہ کوتسلیم کرلیا حالانکہ یہ لفظ قرآن