میں مذکور ہے۔ ان سے ٹیکس وصول کیا لیکن جزیہ کے نام پر نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل ایک نہایت اہم بات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ اصل اہمیت نام کی نہیں بلکہ مقصد وغایت کی ہے۔ اگر مقصد حاصل ہورہا ہے تو اسے کسی بھی نام سے تعبیر کیا جائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جس طرح مسلمانوں کی جان ومال اوران کے حقوق کی حفاظت کی ذمے داری اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اسی طرح غیر مسلم اقلیت کی جان ومال کی حفاظت، ان کے تمام شہری حقوق اور ان کے مذہبی مقامات ومقدسات کی دیکھ بھال کی ذمے داری اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ غیر مسلم اقلیت کے لیے اسلامی شریعت کے یہ قوانین صرف اعتراف کرنے اور کتابوں میں لکھنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عملًا انھیں نافذ کیا جائے اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ کیاجائے۔
قانونی حیثیت سے غیر مسلم اقلیت جن رعایتوں اور رواداریوں کی مستحق ہے انھیں ہم مختصرًا یوں بیان کرسکتے ہیں:
1۔ انھیں اپنے دین ومذہب کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ انھیں بزور طاقت اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان پر کسی قسم کی سیاسی، معاشی یا سماجی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
2۔ انھیں اپنے مذہبی رسم ورواج اور عبادات پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ انھیں اس بات پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے کسی دینی فریضے کوترک کردیں یا کوئی ایسا کام کریں جو ان کے مذہب کی رو سے گناہ ہے۔ مثلًااگر یہودی سنیچر کے دن کام کرنے کو اپنے مذہب کی رو سے غلط تصور کرتا ہے تو اسلامی حکومت میں انھیں سنیچر کے دن کام کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ اسی طرح اگر کوئی عیسائی اتوار کے دن گرجاگھر جانا ضروری سمجھتا ہے تو اسے ایسا کرنے سے منع نہیں