فهرس الكتاب

الصفحة 313 من 328

کیا جاسکتا۔

3۔ ان کے مذہب میں جو چیز حلال ہے اس پر ان کے لیے پابندی نہیں لگائی جاسکتی اگرچہ وہ چیز اسلام میں صریح حرام ہو۔ اسی طرح جو چیز ان کے مذہب میں حرام ہے اسے اپنانے پر انھیں مجبور نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وہ چیز اسلام میں حلال ہو۔ مثلًا اگر عیسائیوں کے مذہب میں سور کا گوشت کھانا اور شراب پینا حلال ہے تو اسلامی حکومت میں ان پر یہ چیزیں حرام نہیں کی جاسکتیں کیونکہ ان کے مذہب میں یہ چیزیں حلال ہیں۔ اگرچہ یہ چیزیں اسلام میں حرام ہیں۔

یہ وہ رعایتیں اور رواداریاں ہیں جو غیر مسلم اقلیت کو قانونًا حاصل ہیں۔ ان کے علاوہ بعض ایسی رواداریاں بھی ہیں جو قانون کے دائرے میں نہیں آتی ہیں بلکہ حسن اخلاق کے زمرے میں آتی ہیں اور جنھیں اختیار کرنے کا ہمیں حکم دیاگیا ہے۔ مثلًا ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا سلوک اور برتاؤ حسن اخلاق وحسن معاشرت پر مبنی ہونا چاہیے۔ اگروہ ہمارے پڑوسی ہیں تو پڑوسیوں کے مکمل حقوق انھیں ادا کریں اوراگروہ ہمارے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں تو ہمارے لیے جائز نہیں ہے کہ ہم ان کے ساتھ بُرا سلوک کریں۔ غیر مسلم والدین کے سلسلہ میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ:

"وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا" (لقمان:15)

''والدین کے علاوہ غیر مسلمین جو ہمارے ساتھ مذہبی دشمنی نہیں رکھتے ہیں ان کے ساتھ ہمارا برتاؤ عدل وانصاف اور حسن اخلاق پر مبنی ہونا چاہیے۔''

فرمان الٰہی ہے:

"لَّا يَنْهَاكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ {8} " (الممتحنہ:8)

''اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انصاف کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت