فهرس الكتاب

الصفحة 314 من 328

اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔''

ایک دوسری آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ مشرکین کو راہِ راست پر لانا تمہارا نہیں بلکہ اللہ کا کام ہے۔ ان کے مشرک ہونے کے باوجود ان کی مالی مدد سے تم گریز نہ کرو۔

"لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللّٰهِ ۚ" (البقرہ:272)

''انھیں ہدایت دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو کچھ تم مال خرچ کرو گے اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔ اور تم صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے مال خرچ کرتے ہو۔''

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید محمد بن حسن روایت کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں جب قحط کی صورت پیدا ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب مشرکین کی مدد کے لیے مالی امداد روانہ کی حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ مکہ والوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنا بُرا سلوک کیا تھا۔ بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس میری والدہ تشریف لائیں اور وہ مشرک تھیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری والدہ آئی ہوئی ہیں کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں ضرور کرو۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کامطالعہ کرنے والا شخص بخوبی جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب اورمشرکین کے ساتھ ہمیشہ اچھابرتاؤ کرتےتھے۔ ان کے پاس تشریف لے جاتے۔ ان کی خیریت دریافت کرتے، حتیٰ المقدور ان کی مدد کرتے اور ان کے بیماروں کی تیمارداری کرتے۔

ابن اسحاق کی سیرت نبوی میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ نجران سے ایک عیسائی وفد حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی غرض سے مدینہ آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وقت عصر

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت