کی نماز سے فراغت کے بعد مسجد نبوی ہی میں تشریف فرماتھے۔ اسی درمیان میں عیسائیوں کی عبادت کا وقت ہوگیا۔ چنانچہ وہ عیسائی مسجد نبوی کے اندر اپنی عبادت ادا کرنے لگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انھیں روکنے کے لیے آگے بڑھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں اپنی عبادت کرنے دو۔ چنانچہ مسجد نبوی کےاندر ان عیسائیوں نے اپنی عبادت ادا کی۔
سعید بن المسیب روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کے گھروالوں کے لیے صدقہ جاری کیا جوآج تک جاری ہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار یہودی کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ اور باتوں باتوں میں اسے اسلام قبول کرنے کی پیش کش کی، چنانچہ اس حسن اخلاق سے متاثر ہوکر اس یہودی نے اسلام قبول کرلیا۔
بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کی اخراجات کے لیے کسی یہودی سے قرض لیا اور رہن کے طور پر اپنی زرہ اس کے پاس رکھ دی اور اسی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو کسی صحابی سے قرض لے سکتے تھے۔ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپناسب کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ لیکن اس کے باجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے قرض لے کر اس بات کی تعلیم دی ہے کہ مشرکین واہل کتاب کے ساتھ بھی ہمارا معاملہ ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ معتبر روایتوں میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ہدئیے اور تحائف بھی قبول کیے ہیں۔
یہ ہیں قرآن وحدیث کی چند دلیلیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا سلوک حسن اخلاق اور حسن معاشرت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عملی زندگی سے بھی مختلف دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک غریب یہودی کے گھر والوں کے لیے بیت المال