سے ماہانہ وظیفہ جاری کروایا۔ پھر یہ آیت پڑھی:
"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ"
''بلاشبہ صدقہ فقراء ومساکین کے لیے ہے۔''
اور فرمایا کہ فقراء ومساکین یہودی اور عیسائیوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی سفر میں عیسائیوں کے ایک گاؤں سے گزرے۔ گاؤں والوں کو کوڑھ کا مرض لاحق تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال کی رقم سے ان کی مدد کا حکم جاری کیا۔
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مجوسی ابولؤلؤ نے شہید کیا تھا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بستر مرگ پر لوگوں کو وصیت کی کہ غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ یہ واقعہ بخاری شریف میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ پڑوس میں جاکر فلاں یہودی کو قربانی کے گوشت میں سے ایک حصہ دےدے۔ غلام نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ قربانی کے گوشت میں یہودی کا حصہ کیسے ہوسکتا ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا کہ وہ بھی تو ہمارا پڑوسی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشاد ہے کہ:
"مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" (بخاری ومسلم)
''جبرئیل علیہ السلام مجھے بار بار پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دے رہے ہیں یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وراثت کا حقدار بنادیں گے۔''
بعض تابعین عیسائی پادریوں کو صدقہ فطر دینے میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے۔ بلکہ ان میں سے بعض مثلًا امام زہری رحمۃ اللہ علیہ ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ اور عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر تابعین عیسائی پادریوں کو زکوٰۃ کی رقم دینے میں بھی کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں ایک مشہور روایت ہے کہ انھوں نے تیمورلنگ سے جنگی قیدیوں کی رہائی کی بات چیت کی۔ تیمورلنگ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے احترام