فهرس الكتاب

الصفحة 318 من 328

تھام کرے اور جو ایسا بھی کرنے پر قادر نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے دل میں براسمجھےاور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔''

اس حدیث کی بنیاد پر بعض جذباتی قسم کے دین دار حضرات سماجی برائیوں کی روک تھام کے لیے قوت و طاقت کے استعمال پر اصرار کرتے ہیں خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں اور اگر حکومت چند خرابیوں میں ملوث ہے۔ برائیوں کی ترویج کر رہی ہے تو یہ لوگ حکومت کے خلاف تخریبی کارروائیوں پر اتر آتے ہیں اور اس راہ میں انھیں جو نقصانات ہوتےہیں یا جان چلی جاتی ہے تو اسے اللہ کی راہ میں شہادت تصورکرتے ہیں ۔ جب کہ بعض لوگوں کا موقف یہ ہے کہ سماج میں برائیوں کی روک تھام انفرادی ذمے داری نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ برائیوں کی روک تھام کے لیے اگر ہر شخص انفرادی طور پر اپنی طاقت و قوت کا استعمال شروع کردے تو معاشرہ میں برائیوں کی روک تھام کے بجائے فتنہ و فساد کا دروازہ کھل جائے گا۔

اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟امید ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں تشفی بخش جواب دیں گے۔

جواب:۔ بلاشبہ بھلائیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا، جسے شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہتے ہیں دین کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ یہ وہ فریضہ اور وصف ہے جس کی وجہ سے اس امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے:

"كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ" (آل عمران:110)

''تم بہترین امت ہو جولوگوں کے لیے برپا کیے گئے ہو، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی

سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔''

اور جس اُمت نے اس فریضہ سے غفلت برتی وہ امت اللہ کے نزدیک ملعون قرارپائی:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت