فهرس الكتاب

الصفحة 319 من 328

"لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ (78) كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ" (المائدہ:78۔ 79)

''نبی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑدیا تھا۔ براطرز عمل تھا جو انھوں نے اختیار کیا۔''

حقیقی مسلم وہ نہیں ہے جو صرف اپنی اصلاح کر کے مطمئن ہو جائے اور مگن رہے۔ معاشرہ میں برائیوں اور گم راہیوں کو پھلتا پھولتا دیکھے اور اسے تکلیف نہ ہو۔ اسے یہ فکر دامن گیرنہ ہو کہ ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کے لیے مسلسل جدو جہد ہونی چاہیے۔ حقیقی مسلم وہ ہے جسے اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد رہنے والے انسانوں کی اصلاح کی بھی فکر ہو۔ ایک سچے اور اچھے مسلمان کے لیے کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ خود تو آگ میں جلنے سے تکلیف محسوس کرتا ہو اور دوسروں کو آگ میں جلتا دیکھ کر بے پروا بنا رہے۔ ایک سچے انسان اور مسلمان کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے:

"وَالْعَصْرِ * إِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ * إِلاَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ" (العصر:1۔ 3)

''زمانے کی قسم! انسان درحقیت خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔''

"تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ"کی تشریح یہ ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو حق اور اچھی باتوں کی تلقین کرتے رہتے ہیں ۔ آپ نے اپنے سوال میں جس صحیح حدیث کاحوالہ دیا ہے اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ مومن وہی شخص ہو سکتا ہے جو حق اور نیک باتوں کی تلقین کرتا رہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت