فهرس الكتاب

الصفحة 320 من 328

اور جو باتیں باطل ہیں اور سماج کو نقصان پہنچارہی ہیں ان کی روک تھام کے لیے ہمہ تن کوشاں رہے۔ اگر بہ زور طاقت روک سکتا ہے تو یہ سب سے بہتر صورت ہے۔ ورنہ اپنی زبان اور قلم سے کوشاں رہے۔ یہ بات تو ایک باہوش طاقت اور زندہ قوم کی علامت ہے کہ معاشرہ میں پھیلتی برائیوں پر خاموش نہ رہے بلکہ بزور طاقت انھیں روکنے کی کوشش کرے۔ اگر امت مسلمہ کو اس بات کا احساس ہے کہ اللہ نے اسے بہترین امت کا خطاب دیا ہے تو اسے چاہیے کہ ان اوصاف کو اختیار کرے ان سے اس کا بہترین ہونا ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اس فریضہ کی ادائی کے سلسلے میں چند باتوں اورشرطوں کی رعایت نہایت ضروری ہے۔ مذکورہ حدیث کے الفاظ خود ہی ان شرطوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

(1) پہلی شرط یہ ہے کہ جس برائی کی روک تھام مقصود ہو وہ منکر ہو جیسا کہ مذکورہ حدیث میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ منکر اس برائی کو کہتے ہیں۔ جسے قرآن یا صحیح حدیث میں واضح طور پر اور مکمل صراحت کے ساتھ حرام اور گناہ قراردیا گیا ہو۔

اس بنا پروہ بُرائیاں جنھیں ہمارا ذہن برائی تصور کرتا ہو لیکن قرآن و حدیث میں انھیں گناہ نہیں قراردیا گیا ہے منکر کے دائرے میں نہیں آئیں گی۔ کیونکہ جب تک اللہ اور اس کا رسول کسی برائی کو منکر نہیں کہتا اسے ہمارے منکر سمجھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اسی طرح وہ گناہ جو صغیرہ کہلاتے ہیں منکر میں شمار نہیں ہوں گے، کیونکہ اس طرح کے گناہ خود بہ خود معاف ہوتے رہتے ہیں اللہ فرماتا ہے:

"إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا" (النساء:31)

''اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے۔ تو تمہاری چھوٹی چھوٹی برائیوں کو ہم معاف کرتے رہیں گے۔ اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت