فهرس الكتاب
معاشرہ دو گروہوں میں منقسم ہوگیا اور ان کے درمیان لڑائیاں شروع ہوگئیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل پورا معاشرہ ایک گروہ کی شکل میں تھا یعنی سب ہی مشرک تھے۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دی تو معاشرہ دو گروہوں میں منقسم ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے اسلام قبول کرلیا اور کچھ شرک پراڑے رہے۔ اور اس کے نتیجہ میں ان کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں۔ توکیانعوذباللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ پرور تھے؟
یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ فتنہ کے مفہوم کوواضح کیاجائے۔ فتنہ دراصل آزمائش اورامتحان کو کہتے ہیں۔ بہت ساری آیتوں میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہواہے۔ مثلًا:
"الم (1) أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ" (العنکبوت:1۔ 2)
''الم!کیالوگوں کو یہ گمان ہے کہ وہ ایمان لائیں گے اور انھیں یونہی چھوڑدیاجائے گا اورا نھیں آزمایانہیں جائےگا۔''
قرآن میں متعدد مقامات پر مال واولاد اور عورتوں کوفتنہ کہا گیا ہے کہ تو یہ سب چیزیں اسی مفہوم میں فتنہ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے اورآزماتا ہے۔ یہ ساری چیزیں اللہ کی نعمت ہیں۔ یہاں فتنہ کامفہوم یہ نہیں ہے کہ یہ ساری چیزیں فتنہ پرور ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نےانھیں آزمائش کاسامان بنایاہے۔
فتنہ کا ایک دوسرامفہوم ہے عذاب دینا اور ستانا۔ مثلًا یہ آیت ملاحظہ کیجئے:
"إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ" (البروج:10)
''بے شک جن لوگوں نے مومن مرد اور عورتوں کوستایا اور اپنے اس عمل سے توبہ نہیں کی۔ ان کےلیے جہنم کا عذاب ہے اور آگ کا عذاب ہے۔''