ہےکہ ہماری باتوں کو بیان کرے اور تسلیم کرے یہ جانے بغیرکہ ہم نے کہاں سے یہ باتیں اخذ کی ہیں۔
(ج) ۔ اس طرح کی مکمل تقلید کرنا اور اس کے لیےمتعصب ہونا ایک ایسی بدعت ہے جس کا وجود قرون اولیٰ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے دور) میں نہیں تھا۔ یہ تو بعد کے دور کی پیداوار ہے جب امت مسلمہ میں علم اور اخلاص کی کمی ہوگئی۔ علامہ ابوزید اپنی کتاب تقدیم الادلہ میں فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں لوگ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسروں کی بات تقلید کی بنیاد پر نہیں بلکہ دلیل کی بنیاد پر مانتے تھے۔ کسی ایک شخص کی مکمل تقلید نہیں کرتے تھے۔ ایک مسئلہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات مانتے تو دوسرے مسئلہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کو ترجیح دیتے۔ نہ کوئی مکمل طور پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرتا اور نہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی۔ یہ وہ دور تھا جس کی تعریف خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔ لیکن بعد کے دور میں جب لوگوں میں تقوے کی کمی آگئی اور اجتہاد کی مشقتوں سے کترانے لگے تو وہ قرآن وسنت کی دلیلوں کے بجائے اپنے علمائے کرام پر تکیہ کرنے لگے۔ پس کوئی اما م ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر تکیہ کرنے لگا اور حنفی بن گیا اور کوئی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ پر تکیہ کرنے لگا اور مالکی بن گیا۔'' وغیرہ وغیرہ۔
4۔ کسی مسئلہ میں کسی امام کی رائے سے اتفاق نہ کرنا ان کی شان میں گستاخی نہیں ہے اور اس سے ان کی علمی منزلت میں بھی کمی واقع نہیں ہوتی ہے۔ علمائے کرام کی عزت واحترام کرنا ایک اسلامی فریضہ ہے کیوں کہ علمائے کرام انبیاء علیہ السلام کے حقیقی جانشین ہیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ عزت واحترام کرنا ایک بات ہے اور کسی کی رائے سے اتفاق نہ کرنا دوسری بات ہے۔ کسی کی رائے سے مخالفت کے باوجود اس کی بھرپور عزت کی جاسکتی ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حد درجہ محبت کے باوجود فرماتے تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں صائب الرائے بھی ہیں اور ایسے بھی جن سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا سراسر جہالت ہے کہ کسی مسئلہ میں کسی امام کی رائے سے