فهرس الكتاب

الصفحة 55 من 328

اختلاف کرنا اس کی شان میں گستاخی یا اس کی بے عزتی ہے۔

5۔ ہم نے تقلید کے سلسلے میں نہایت نرم الفاظ استعمال کیے ہیں اور بتایا ہے کہ تقلید نہ تو واجب ہے اور نہ سنت، لیکن ہمارے سلف صالحین نے تقلید کے لیے بڑے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن حزم کہتے ہیں کہ تقلید حرام ہے۔ [1] اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی بات بغیر کسی دلیل کے قبول کرلے۔ اللہ کاحکم ہے:

"اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ" (الاعراف:3)

''لوگو جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرواور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔''

دوسری جگہ اللہ کافرمان ہے:

"وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّٰهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا" (البقرہ:170)

''ان سےجب کہا جاتا ہے کہ اللہ نےجو احکام نازل کیے ہیں ان کی پیروی کروتو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔''

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہ اور سلف صالحین اس بات پر متفق رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جس کی تمام کی تمام باتیں قبول کرلی جائیں کیوں کہ اس کی باتیں صحیح بھی ہوسکتی ہیں اورغلط بھی۔ جو لوگ مکمل طور پر ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، مالک رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ یا احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرتے ہیں انھیں یہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت