فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 328

جان لینا چاہیے کہ وہ ایساکرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کی متفق علیہ روش سے ہٹ کر کام کرتے ہیں۔ آکر کس بنیاد پر انھوں نے ان اماموں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر فوقیت دے رکھی ہے۔ کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، کی مکمل تقلید تو کرلیتے ہیں لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یاحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تقلید نہیں کرسکتے؟

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جس شخص نےکسی امام کی اس طرح تقلید کی کہ اس کی ساری باتوں کوبرحق مانتا ہو اور دوسرے اماموں کی باتوں کوردکردیتا ہو اسے قتل کردینا چاہیے الا یہ کہ وہ اس عمل سے توبہ کرلے کیونکہ ایسا کرکے اس نے اپنے امام کو شارع اور نبی کے درجہ پر لابٹھایا اور اس کے اس عمل نے اسے اسلام سے خارج کردیا۔

6۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جو رائے سب سے زیادہ مشہور اور جس کے ماننے والے کثرت میں ہوں وہی رائے سب سے زیادہ صحیح رائے ہو یا جس رائے کے ماننے والے اقلیت میں ہوں وہ رائے سرے سے غلط ہوکیونکہ کسی رائے کے غلط یا صحیح ہونے کا دارومدار اس کی شہرت اور اس کے متبعین کی کثرت پر نہیں ہے بلکہ دلیل کےمضبوط اور معتبر ہونے پر ہے۔ ورنہ اسلام کبھی دین حق نہ ہوتا کیوں کہ اس کے ماننے والے دنیا میں ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے:

"وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ" (الرعد:1)

'' لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔''

"وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ" (یوسف:103)

''تم کیسی ہی خواہش کرلو لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاسکتی۔''

7۔ اجتہادی مسائل میں اختلاف کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے اپنی عزت اوروقار کا مسئلہ بنا کر تفرقہ اور دشمنی کی صورت پیدا کرلی جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین فقہی مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے لیکن کبھی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت