ایسا نہیں ہواکہ اس اختلاف کی وجہ سے ان کے درمیان دشمنی ہوئی ہو۔ اس اختلاف کے باوجود وہ ایک دوسرے کی امامت میں نماز پڑھتے اور ان کے درمیان مکمل اتحاد واتفاق تھا۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بھی فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان میں سے کسی کو اپنی بات کے صحیح ہونے پر اس قدر اصرار ہوکہ دوسرے کی بات کو سرے سے قبول ہی نہ کرے۔ چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نماز فجر میں دعائے قنوت کوضروری سمجھنے کے باوجود جب انھوں نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کے نزدیک نماز فجر ادا کی تو ان کے رتبہ کا احترام کرتے ہوئے فجر کی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔ کیا آپ ان کی امامت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور سعید بن المسیب جیسے حضرات کی امامت میں نماز پڑھنے سے کسے تامل ہوسکتا ہے۔
اکثر یہ دیکھا اور سنا گیا ہے کہ عام لوگ ان فقہی مسائل میں اختلافات کی کثرت دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ آخر ان اختلافات کے اسباب کیا ہیں؟ان کے اطمینان قلب کے لیے ان اسباب کا بیان ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ ہیں:
1۔ شرعی احکام کامنبع ومآخذ قرآنی آیات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ ہے، اور یہ عین فطری بات ہے کہ ان قرآنی آیات یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو سمجھنے میں اور ان کے مفہوم کی تعیین میں لوگ مختلف ہوجائیں۔ بعض لوگ ظاہری مفہوم کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض لوگ بات کے اصل مدعا ومقصد کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اس کے اصل مفہوم کو ترجیح دیتے ہیں۔ مفہوم کے تعین میں اس اختلاف کی وجہ سے فقہی مسائل میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر غزوہ احزاب سے واپسی کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ