کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
"من كان يؤمن باللّٰه و اليوم الآخر فلا يصلين العصر الا في بني قريظة" (بخاری ومسلم)
'' جوشخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ عصر کی نماز بنی قریظہ پہنچ کر ہی ادا کرے۔''
جب سورج غروب ہونے کا وقت آیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنی قریظہ نہیں پہنچ سکے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کے بارے میں غور کرنے لگے۔ چنانچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز اداکرنے کاحکم دیا ہے، اس لیے ہم وہیں جا کرادا کریں گے، خواہ نماز قضا ہوجائے۔ اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم نماز قضا کردیں بلکہ آپ کا مقصد یہ تھا کہ ہم جلد از جلد بنی قریظہ پہنچنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ انھوں نے سورج غروب ہونے سے قبل اوربنی قریظہ پہنچنے سے قبل عصر کی نماز ادا کرلی۔ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک فریق نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا اوردوسرے فریق نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے اصل مدعا ومقصد کو مد نظر رکھا۔ بعد میں جب یہ معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں کو درست قراردیا۔
اب آپ دیکھ لیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم ایک ہی تھا لیکن دونوں فریقوں نے اپنی اپنی سمجھ اور اجتہاد کے مطابق عمل کیا اور ان کے درمیان اختلاف ہوا اور اس اختلاف کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کودرست قراردیا۔
2۔ طبعًا بعض لوگ سختی اور تشدد کی طرف مائل ہوتے ہیں جب کہ بعض لوگ فطری طور پر سہل پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نسبتًا سخت مزاج واقع ہوئے تھے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا میلان سہل پسندی اورآسانی کی طرف