فهرس الكتاب

الصفحة 59 من 328

تھا۔ طبیعت میں اس فرق کی وجہ سے بھی فقہی مسائل میں اختلافات ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی سخت طبیعت کی وجہ سے اپنے بچوں کو بوسہ دینے سے گریز کرتے تھے جب کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ایسا کرنے کو نیک عمل سمجھتے تھے۔

3۔ عربی زبان میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن میں حقیقی اور مجازی دونوں قسم کے معنوں کا احتمال ہوتا ہے۔ بعض لوگ حقیقی معنی ومفہوم کو لیتے ہیں اور بعض لفظ کےمجازی مفہوم کو ترجیح دیتے ہیں مثال کے طور پرقرآن کے الفاظ"أَوْلامَسْتُمُ النِّسَاءَ"میں لفظ"لامَسْتُمُ"میں حقیقی اور مجازی دونوں مفہوم کی گنجائش ہے۔ اس کا حقیقی معنی ہے ہاتھ سے چھونا۔ اور اس کا مجازی مفہوم ہے بیوی سے مباشرت کرنا۔ جن فقہاء کرام نے اس کے حقیقی مفہوم کو ترجیح دی ان کے نزدیک بیوی کو صرف ہاتھ سے چھودینے سے وضو ٹوٹ جاتاہے لیکن جن کے نزدیک یہاں لفظ کا مجازی مفہوم مراد ہے۔ ان کے نزدیک بیوی کو صرف ہاتھ سے چھودینے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔

4۔ بسا اوقات ایساہوتا ہے کہ ایک روایت اور حدیث کسی امام کے نزدیک صحیح اور معتبر ہوتی ہے اور وہ اس کے مطابق اپنی رائے قائم کرتا ہے جب کہ کسی دوسرے امام کے نزدیک یہ حدیث غیرمعتبر اورضعیف ہوتی ہے اور وہ اس غیر معتبر روایت کو اپنی دلیل نہیں بناتا۔ روایت کے معتبر ہونے یا نہ ہونے سے بھی فقہی مسائل میں اختلافات ہوئے ہیں۔

5۔ بعض فقہائے کرام فقہی مسائل کے سلسلے میں قرآن وحدیث کے علاوہ دوسرے عوامل پربھی نظر رکھتے ہیں۔ مثلًا دنیا کے بدلتے حالات، مختلف علاقے والوں کی مختلف ضرورتیں اور عوامی مصلحتیں وغیرہ۔ ان فقہائے کرام کے نزدیک یہ عوامل کچھ زیادہ معتبر نہیں ہیں۔

6۔ بعض فقہاء کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کی شریعتیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت