تقدیر پر ایمان لانے کے دو مراتب ہیں ۔پہلا مرتبہ علم ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:
{لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا}
ترجمہ:''تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔اور بیشک اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے'' (الطلاق:12)
دوسرا مرتبہ تقدیر کو لکھا ہوا ماننا ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:
{وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ}
ترجمہ:''اور ہر چیز کو ہم نے لوحِ محفوظ میں شمار کیا ہوا ہے۔'' (یس:12) ۔
مزید فرمایا:
{قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَى}
ترجمہ:'' (تقدیر) کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے۔میرا رب نہ تو بھولتا ہے اور نہ ہی بھٹکتا ہے۔'' (طٰہ:52)
تیسرا مرتبہ ہے اللہ تعالیٰ کی چاہت پر ایمان لانا۔فرمانِ الٰہی ہے:
{وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللّٰهُ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا}
ترجمہ:''اور تم نہیں چاہتے مگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔'' (الانسان:30) ۔
چوتھا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر ایمان لانا ہے۔اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ}
ترجمہ:''اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے'' (الزمر:62) ۔
1۔شرک کرنا:اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور غیر اللہ کے لئے ذبح کرنا،ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ