فهرس الكتاب

الصفحة 110 من 114

اس کی تائید ابو داؤد کی ایک حدیث سے بھی ہوتی،لیکن اُس میں [ثُمَّ کَبَّرَ] کے الفاظ کو بعض محدِّثین نے ''مُنْکَرْ' 'قرار دیا ہے۔ [1]

فقہاء ِ احناف میں سے صاحب ِہدایہ نے اسی انداز کو ہی صحیح تر قرارا دیا ہے۔ [2]

بعض احادیث ایسی بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تکبیرِ تحریمہ پہلے کہی جائے اور پھر ساتھ ہی بعد میں رفع یدین کی جائے،جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم اور سنن نسائی میں ہے،چنانچہ ابو قلابہ سے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے:

(( أَنَّہٗ رَأَیٰ مَالِکَ بْنَ الْحُوَیْرِثِ اِذَا صَلّٰی کَبَّرَثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ )

''انھوں نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب انھوں نے نماز پڑھی تو پہلے تکبیر کہی اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا [رفع یدین کی ] ۔''

اس حدیث کی آخر میں ہے:

(( وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَانَ یَفْعَلُ ہٰکَذَا ) [3]

''اور انھوں [مالک رضی اللہ عنہ ] نے بیان کیا کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے''

حافظ ابن ِحجر رحمہٗ اللہ نے فتح الباری میں کہا ہے:

(لَمْ أَرَ مَنْ قَالَ بِتَقْدِیْمِ التَّکْبِیْرِعَلیٰ الرَّفْعِ) ۔ [4]

[2] فتح الباری ۲؍۲۱۸۔

[3] بخاری حدیث:۷۳۷،مسلم ۲؍۴؍۹۴،صفۃ صلوٰۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم (ص:۴۳) ،فقہ السنہ ۱؍۱۴۳۔

[4] فتح الباری ۲؍۲۱۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت