آگے امام ابن سیرین رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے،جسے امام اثرم رحمہ اللہ نے بھی اپنی مسند میں روایت کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے:
( ھُوَمِنْ تَمَام ِالصَّلوٰۃِ ) ۔ [1]
''یہ نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔''
مشہور تو یہ ہے کہ فقہاء ِ کوفہ رفع یدین کے قائلین نہیں ہیں،جبکہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ معروف فقہاء ِکوفہ میں سے ہیں،ان کے بارے میں امام بخاریرحمہ اللہ نے لکھا ہے:
( وَکَانَ ابْنُ الْمُبَارَکِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ وَہُوَ أَکْبَرُأَہْلِ زَمَانِہٖ عِلْمًا فِیْمَا یُعْرَفُ ) ۔ [2]
''حضرت ابن مبارک رحمہ اللہ رفع یدین کیا کرتے تھے،اور وہ اپنے وقت کے معروف علماء میں سے سب سے بڑے عالم تھے۔''
علمی لطیفہ:
انہی حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا ایک پر لُطف واقعہ امام بخاریرحمہ اللہ نے جزء رفع الیدین میں،امام بیہقی نے سنن کبریٰ (۲/۸۲) میں،امام احمدبن حنبل نے السنہ (ص:۵۹) میں،امام ابن حبان نے الثقات (۴/۱۷) میں،خطیب نے تاریخ ِ بغداد (۱۳/۴۰۶) میں،ابن عبد البر نے التمہید (۵/۶۶) میں اور ابن قتیبہ نے تأویل مختلف الحدیث میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نقل کیا ہے جس میں امام ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں:
(کُنْتُ أُصَلِّيْ اِلیٰ جَنْبِ نُعْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ فَرَفَعْتُ یَدَيَّ فَقَالَ: اِنَّمَا خَشِیْتُ أَنْ تَطِیْرَ،فَقُلْتُ: اِنْ لَمْ أَطِرْ فِيْالأُوْلیٰ
[2] جزء امام بخاری (ص:۵۷) ۔