فهرس الكتاب

الصفحة 78 من 114

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:

( دَعْ عَنْکَ حَدِیْثَ النَّسْخِ اِذْ قَدْ شَھِدَ الْعَمَلُ بِالْجَانِبَیْنِ،فَاِنَّہٗ أَقْویٰ دَلِیْلٍ عَلیٰ عَدْم ِالنَّسْخ ِ،وَذَھَبَ بَعْضُھُمْ اِلیٰ عَدْمِ النَّسْخِ مُطْلَقًا،قَالُوْا بِاِسْتِنَانِ الْأَمْرَیْنِ لَکِنَّ الرَّفْعَ عِنْدَھُمْ أَکْثَرُوَ أَرْجَحُ وَأَحَبُّ مِنْ تَرْکِ الرَّفْعِ) ۔ [1]

''نسخ والی بات چھوڑو،جبکہ دونوں طرف ہی عمل شاہد ہے۔ اور یہ عدم ِ نسخ کی قوّی ترین دلیل ہے اور بعض تومطلق عدم ِنسخ کے قائل ہیں،اور وُہ دونوں کو ہی سنّت کہتے ہیں،لیکن ان کے نزدیک رفع یدین کرنا زیادہ احادیث سے ثابت اورراجح و محبوب تر ہے،بہ نسبت ترک کے۔''

اور آگے انھوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی رحمہ اللہ کا وہ قول نقل کیا ہے جو ہم ذکر کر چکے ہیں۔

(6) … کبار علماء ِ احناف میں سے علّامہ سندھی نے حاشیۃ سنن النسائی میں لکھا ہے:

( وَمَنْ لَا یَقُوْلُ [أَيْ بِرَفْعِ الْیَدَیْنِ] یَرَاہُ مَنْسُوْخًا بِمَالَایَدُلُّ عَلَیْہِ،فَاِنَّ عَدْمَ الرَّفْعِ،اِنْ ثَبَتَ فَلَایَدُلُّ عَلیٰ عَدْمِ سُنِّیَّۃِ الرَّفْعِ اِذْشَأْنُ السُّنَّۃِ تَرْکُہَا أَحْیَانًا،وَیَجُوْزُاِسْتِنَانُ الْأَمْرَیْنِ جَمِیْعًا،فلَاَوَجْہَ لِدَعْویٰ النَّسْخِ وَالْقَوْلِ بِالْکَرَاہِیَۃِ) ۔ [2]

''اور جو رفع یدین کا نہیں کہتا،وہ بلا دلیل اسے منسوخ مانتا ہے،کیونکہ اگر

[2] حاشیۃ نسائی للسندی ۱؍۱۴۰بحوالہ سابقہ ایضًا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت