مندرجہ بالا روایات سے واضح ہو گیا کہ رات کی نماز کو تیرہ ،گیارہ، نو، سات ،پانچ ،تین اور ایک رکعت سے وتر بنانا جائز ہے۔ گیارہ رکعات ادا کرنا"درجہ کمال"ہے۔ تین رکعات وتر ادا کرنا کمال کا ادنی درجہ ہے جب کہ ایک رکعت وتر"کفایت"کا درجہ ہے۔
مستحب یہ ہے کہ وتر میں رکوع کے بعد قنوت کریں ،جس میں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی جائے۔ [1]
"اللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّمَا قْضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ لَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ"
"اے اللہ ! تونے جن لوگوں کو ہدایت دی ہے مجھے بھی ان میں ہدایت دے۔اور جن لوگوں کو تونے عافیت دی ہے مجھے بھی ان میں عافیت دی ہے مجھے بھی ان میں عافیت دے اور جن لوگوں کی تونے سر پرستی فرمائی ہے ان لوگوں میں میرا بھی سر پرست بن۔ اور جو کچھ تونے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت فرما۔ اور تونے جو فیصلے کیے ہیں ان کے شرسے مجھے بچا کیونکہ تو ہی (حتمی ) فیصلے کرتا ہے اور تیرے (فیصلے کے) خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا ۔ یقینی بات ہے کہ تو جس کا دوست بن جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اور جس سے تو دشمنی کر لے وہ ہر گزمعزز نہیں ہو سکتا۔ اے ہمارے رب! تو برکت اور بلند شان والا ہے۔ [2] اور تیرے عذاب سے تیرے سواکوئی بچانے والا نہیں ہے۔" [3]
ہادی برحق سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے مہینہ میں"نماز تراویح"کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نماز"سنت مؤکدہ"ہے۔
[2] ۔سنن ابی داؤد الوتر باب القنوت فی الوتر حدیث 1425۔وجامع الترمذی الوتر باب ماجاء فی القنوت فی الوتر حدیث 456وسنن النسائی قیام اللیل باب الدعاء فی الوتر حدیث 1746۔
[3] صفۃ صلاۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم للا لبانی ص181۔