فهرس الكتاب

الصفحة 213 من 530

1۔ حجب اوصاف:جس شخص کو میراث کے تین موانع:غلامی،قتل اور اختلاف دین میں سے کوئی ایک مانع لاحق ہو۔ایسا شخص وارث نہیں قرار پاتا۔اس کا موجود ہونا نہ ہونے کے مترادف ہے۔

2۔ حجب اشخاص:کوئی وارث دوسرے وارث کی وجہ سے ترکہ سے بالکل محروم ہوجائے تو اسے"حجب"حرمان کہا جاتا ہے۔اوراگر کسی وارث کو دوسرے وارث کی وجہ سے کم حصہ ملے تو یہ حجب نقصان ہے۔چونکہ ان قسموں میں مانع شخص ہوتا ہے ،اس لیے اسے حجب اشخاص کا نام دیا گیا ہے۔

حجب اشخاص کی سات صورتیں ہیں۔تین صورتوں میں کسی شخص کی وجہ سے وارث کا حصہ زیادہ کے بجائے کم ہوجاتاہےاور چار صورتوں میں افراد کی تعداد بڑھ جانے سے ان کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔تفصیل یہ ہے:

1۔ کوئی وارث دوسرے کی وجہ سے صاحب فرض کی حیثیت سے زیادہ کے بجائے کم حصہ لے،مثلًا:اولاد کی وجہ سے خاوند نصف کے بجائے چوتھائی ترکہ کا حقدار ہے۔

2۔ کوئی وارث دوسرے وارث کی وجہ سے بحیثیت عصبہ زیادہ کے بجائے کم حصہ لے ،مثلًا:بہن عصبہ مع الغیر کی بجائے عصبہ بالغیر بن جائے۔

3۔ کوئی صاحب فرض کسی دوسرے کی وجہ سے عصبہ بن کر کم حصہ لے ،مثلًا بیٹی نصف کے بجائے (اپنے بھائی کے ساتھ) عصبہ بالغیر بن کر کم حصہ لے۔

4۔ کوئی عصبہ کے بجائے صاحب فرض بن کر کم حصہ لے،مثلًا:اولاد کی موجودگی میں میت کا باپ عصبہ کی بجائے صاحب فرض ہوجائے۔

5۔ ایک مقرر فرض حصے میں شرکاء کی تعداد بڑھ جائے،مثلًا:میت کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو چوتھائی یا آٹھواں حصہ سب میں برابر تقسیم ہوجائے۔

6۔ عصبہ کی حیثیت سے لینے والے شرکاء کی تعداد بڑھ جائے،مثلًا:میت کے بیٹے زیادہ ہوں اولاد کاحصہ سب میں بٹ جائے گا اور ہر ایک کا حصہ کم ہوجائےگا۔

7۔ عول کے سبب ورثاء کا حصہ کم ہوجائے۔اس صورت میں ہر ایک کو اس کے مقررہ حصے سے کم ملتا ہے۔

(2) ۔حجب کا دارومدارچند قواعد پر ہے:

(3) ۔جو بھی میت سے رشتہ کسی دوسرے وارث کے واسطے سے رکھتا ہوتو وہ شخص اس واسطے کی موجودگی میں محجوب (محروم) ہوگا،مثلًا:پوتا بیٹے کی موجودگی میں دادی،نانی ماں کی موجودگی میں دادا،باپ کی موجودگی میں اور بھائی،باپ کی موجودگی میں محروم ہوں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت