4۔ جو پرندے مردار کھاتے ہیں ان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے،مثلًا:باز،گدھ اور کوا کیونکہ یہ خبیث (گندی) غذا کھاتے ہیں۔
5۔ وہ حیوانات بھی حرام ہیں جوخبیث سمجھے جاتے ہیں،مثلًا:سانپ ،چوہا اور حشرات وغیرہ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"سانپ اور بچھو کا کھاناحرام ہے۔اس پر اہل علم کااجماع ہے۔جس شخص نے انھیں حلال سمجھتے ہوئے کھایا اسے توبہ کرنے کاحکم دیاجائے۔اگر کسی نے حرام سمجھتے ہوئے کھایا تو وہ فاسق ہے،یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا ہے۔" [1]
6۔ کیڑے مکوڑوں کوکھانا حرام ہے کیونکہ ان کا شمار خبیث اشیاء میں ہوتا ہے۔
7۔ ایسے حیوانات جو ایک حلال اور ایک حرام جانور کے ملاپ سے پیداہوں،ان کا کھانا بھی حرام ہے،مثلًا: خچر جو گھوڑی اور گدھے کے ملاپ کی پیداوار ہے۔اس میں گدھے کی جانب کوترجیح دیتے ہوئے اسے حرام قراردیا گیا ہے۔
8۔ بعض علماء نے خشکی کے حرام جانوروں کی چھ اقسام اجمالًا یوں بیان کی ہیں:
وہ جانور جن کا نام لے کر حرام قراردیاگیا ہو،مثلًا:پالتو گدھا۔
وہ جانور جو وضع کردہ تعریف اور ضابطے میں داخل ہوں،مثلًا: وہ درندہ جس کی کچلی ہو یا وہ پرندہ جو پنجے سے شکار کرے اور کھائے۔
جو جانور مردار کھاتے ہیں،مثلًا گدھ اور کوا وغیرہ۔
وہ جانور جو خبیث اور مکروہ سمجھے جاتے ہیں ،مثلًا:چوہا اور سانپ وغیرہ۔
وہ جانور جو حلال اور حرام کے ملاپ سے پیداہوں،مثلًا:خچر۔
وہ جانور جن کے بارے میں شارع علیہ السلام نے حکم دیا ہے کہ قتل کردیا جائے ،مثلًا:پانچ فاسق جانور ،سانپ،چوہا، (کاٹنے والا) کتا،بچھو ،چیل یا ان کو قتل کرنے سے منع کیاہے،مثلًا:ہدہد،ممولا اور مینڈک وغیرہ۔
9۔ مذکورہ قسم کے حیوانات اور پرندوں کے سوا باقی سب حلال ہیں اصل اباحت کودیکھتے ہوئے،مثلًا:گھوڑا،چوپائے، (گائے،اونٹ،بھیڑ،بکری) مرغی،جنگلی گدھا،ہرن،شتر مرغ اورخرگوش وغیرہ۔ان سب کا گوشت پاک صاف اورپسندیدہ سمجھاجاتا ہے ،لہذا یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہے:
"قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ""آپ کہہ دیجیے کہ تمام چیزیں تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں۔" [2]
[2] ۔المائدۃ:5/4۔