فهرس الكتاب

الصفحة 651 من 727

''وَلَاعَنَ عُمَرُ عِنْدَ مِنْبَرِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم '' [1]

''حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منبرِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے کر کے لعان کروایا۔''

تاریخِ اسلام کے معروف قاضی شریح کے بارے میں صحیح بخاری میں تعلیقًا اور مصنف ابن ابی شیبہ و طبقات ابن سعد میں موصولًا مروی ہے کہ ابو خالد بیان کرتے ہیں:

''رَأَیْتُ شُرَیْحًا یَقْضِيْ فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَیْہِ بُرْنُسٌ مِنْ خَزٍّ'' [2]

''میں نے قاضی شریح کو دیکھا کہ وہ مسجد میں فیصلے کیا کرتے تھے اور وہ اون اور ریشم سے بنی لمبی ٹوپی پہنے ہوتے تھے۔''

مصنف عبدالرزاق میں امام حکم بن عتیبہ بیان کرتے ہیں:

''رَأَیْتُ شُرَیحًا یَقْضِيْ فِي الْمَسْجِدِ'' [3]

''میں نے قاضی شریح کو مسجد میں فیصلے کرتے دیکھا ہے۔''

امام یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ کے بارے میں صحیح بخاری میں تعلیقًا اور مصنف ابن ابی شیبہ میں موصولًا مروی ہے کہ عبدالرحمن بن قیس کہتے ہیں:

''رَأَیْتُ یَحْیٰی بْنَ یَعْمَرَ یَقْضِيْ فِي الْمَسْجِدِ'' [4]

''میں نے یحییٰ بن یعمر کو دیکھا ہے کہ وہ مسجد میں بیٹھ کر فیصلے کیا کرتے تھے۔''

امام شعبی رحمہ اللہ کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے ایک ترجمۃ الباب میں تعلیقًا لکھا ہے:

''وَقَضَی الشَّعْبِيُ فِي الْمَسْجِدِ'' [5]

''امام شعبی رحمہ اللہ نے مسجد میں بیٹھ کر فیصلے کیے۔''

امام شعبی رحمہ اللہ کے اس اثر کو جامع سفیان میں سعید بن عبدالرحمن مخزومی نے عبداﷲ بن شبرمہ

[2] صحیح البخاري (13/ 154-155)

[3] فتح الباري (13/ 155)

[4] فتح الباري (13/ 155)

[5] فتح الباري (13/ 155)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت