فهرس الكتاب

الصفحة 47 من 92

'' اسے دھولینا اور دو کپڑے دوسرے لے لینا اور میرا کفن بنالینا۔''

صدیقۂ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

'' ابا جان !آپ کا یہ کپڑا تو پرانا ہوچکا ہے۔''

تب صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

(( اِنَّ الْحَیَّ اَوْلٰی بِالْجَدِیْدِ مِنَ الْمَیِّتِ ) )

''میّت کی نسبت نئے کپڑوں کا زیادہ مستحق زندہ آدمی ہوتا ہے۔'' [1]

رضی اﷲعن ابی بکر وارضاہ

سفید کپڑ ے کی فضیلت:

کفن کے کپڑوں کا سفید ہونا افضل ہے کیونکہ ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

(( اِلْبِسُوْامِنْ ثِیَابِکُمُ الْبَیَاضِ فَاِنَّھَا مِنْ خَیْرِثِیَابِکُمْ وَکَفِّنُوْا فِیْھَا مَوْتَاکُمْ ) ) [2]

''اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہناکرو کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑے ہیں اور اِن (سفیدکپڑوں) ہی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔''

مرد کے کفن کے کپڑ ے:

مرد کا کفن تین چادروں پر مشتمل ہونا چاہیئے،ایک چادر بطورِ قمیص،دوسری بطورِ تہبند اور تیسری بطورِ لفافہ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم،سنن اربعہ اور مسند احمد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

(( اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کُفِّنَ فِی ثَلَاثَۃِ اَثْوَابٍ بِیْضٍ سُحُوْلِیَّۃٍ لَیْسَ فِیْھَا

[2] مشکوٰۃ ۱؍۵۱۸ وصححہٗ الالبانی ۷؍۱۷۰۔۱۷۱،ترمذی مع التحفہ ۴؍۷۲

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت