فهرس الكتاب

الصفحة 245 من 328

اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔'' [1]

اس آیت مقدسہ سے اشارتًا معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کی شرکیہ دعا قبول ہو جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی قبول کرتا ہے لیکن ناراض ہو کر کیونکہ بندے نے توحید کے منافی طریقہ اختیار کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے ''مزعومہ شریک'' کا اس دعا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

کسی مخلوق کی امر واقع کے اعتبار سے یہ حیثیت ہے ہی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریک ہو تو جب وہ شریک ہی نہیں ہے تو شرکیہ دعا کی قبولیت میں اس کا کوئی کردار کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ تو یہ سب مشرک کے اپنے ذہن کی اختراع ہوتی ہے کہ میں نے فلاں کو پکارا تو اس نے میرا کام کرا دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت