تمام انبیاء علیہم السلام نے سب سے پہلے اپنی اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کرائی۔
سیدنا نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ }
''بلاشبہ یقیناہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے کہا: اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک میں تم پر بہت بڑے دن کا عذاب آجانے سے ڈرتا ہوں۔'' [1]
سیدنا ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
{ وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ أَفَلَا تَتَّقُونَ }
''اور ہم نے (قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا) ، انھوں نے کہا: اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، کیا پھر تم ڈرتے نہیں؟'' [2]
سیدنا صالح علیہ السلام نے یوں دعوت توحید دی: { قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ }
''اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سواتمھارا کوئی معبود نہیں۔'' [3]
سیدنا شعیب علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:
{ وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ }
''اور ہم نے اہلِ مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) ۔انھوں نے کہا:اے میری قوم!تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں،بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف
[2] الأعراف 65:7.
[3] ٔعراف 73:7.