فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
کرو گے۔'' [1]
اگر اس حدیث کا یہ مطلب ہو کہ اس امت میں شرک کا وجود ہی نہیں ہے تو پھر قرآن و سنت میں جو شرک سے ڈرایا گیا ہے اس کا کیا مطلب کہ ایک ایسی چیز سے ڈرایا جارہا ہے جس کا کوئی ڈر ہی نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: { وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا }
''اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔'' [2]
نیز فرمایا: { قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا }
''کہہ دیجیے!آؤ میں تلاوت کروں وہ جو تمھارے رب نے تم پر حرام کیا ہے یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔'' [3]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کا ایک گروہ موجود تھا تو آپ نے فرمایا: (( بَایعُونِی عَلٰی أَنْ لَّا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا ) )
''تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔'' [4]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں وہ کر لوں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِكُ بِہِ شَیْئًا ) )
''تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔'' [5]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی:
(( أَنْ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ ) )
''یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، خواہ تمھارے ٹکڑے کر دیے جائیں اور تمھیں جلا دیا جائے۔'' [6]
5 اگر شرک کا وجود اس امت میں ممکن ہی نہیں تو جن امور کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک قرار دیا ہے، اگر
[2] النسآء 36:4.
[3] الأنعام 151:6.
[4] صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 18.
[5] صحیح البخاري، الزکاۃ، حدیث: 1397.
[6] سنن ابن ماجہ، الفتن، حدیث: 4034.