فهرس الكتاب

الصفحة 318 من 328

کرو گے۔'' [1]

اگر اس حدیث کا یہ مطلب ہو کہ اس امت میں شرک کا وجود ہی نہیں ہے تو پھر قرآن و سنت میں جو شرک سے ڈرایا گیا ہے اس کا کیا مطلب کہ ایک ایسی چیز سے ڈرایا جارہا ہے جس کا کوئی ڈر ہی نہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: { وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا }

''اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔'' [2]

نیز فرمایا: { قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا }

''کہہ دیجیے!آؤ میں تلاوت کروں وہ جو تمھارے رب نے تم پر حرام کیا ہے یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔'' [3]

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ کا ایک گروہ موجود تھا تو آپ نے فرمایا: (( بَایعُونِی عَلٰی أَنْ لَّا تُشْرِکُوا بِاللّٰہِ شَیْئًا ) )

''تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔'' [4]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں وہ کر لوں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( تَعْبُدُ اللّٰہَ لَا تُشْرِكُ بِہِ شَیْئًا ) )

''تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔'' [5]

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی:

(( أَنْ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰہِ شَیْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ ) )

''یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، خواہ تمھارے ٹکڑے کر دیے جائیں اور تمھیں جلا دیا جائے۔'' [6]

5 اگر شرک کا وجود اس امت میں ممکن ہی نہیں تو جن امور کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک قرار دیا ہے، اگر

[2] النسآء 36:4.

[3] الأنعام 151:6.

[4] صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 18.

[5] صحیح البخاري، الزکاۃ، حدیث: 1397.

[6] سنن ابن ماجہ، الفتن، حدیث: 4034.

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت