فهرس الكتاب

الصفحة 77 من 328

ہے۔اس گردش کا مقصد خون کا ان باریک نالیوں کے گچھوں سے گزرنا ہوتا ہے جہاں سے خون کے فاسد مادوں کا اخراج پیشاب کے ذریعے سے ہوتا ہے، اس طرح چوبیس گھنٹوں میں اوسطًا 170 لیٹر خون گردوں میں سے گزر کر صاف ہو جاتا ہے۔

علاوہ ازیں انسان کی ٹانگوں، بازوؤں اور گردن، غرضیکہ بدن کے انگ انگ میں حرکت کی وہ صلاحیت رکھی گئی ہے جس کے بغیر انسان نہ کوئی بڑی چیز ایجاد کر سکتا تھا، نہ تہذیب و تمدن ترقی کر سکتے تھے، مثلًا: ہمارے بازوؤں کو دیکھ لیجیے، ان میں کہنی کے مقام پر جو ہلکا سا خم ہے، اسی خم کی وجہ سے انسان اپنے ہاتھوں سے ہر طرح کا مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ان انگلیوں کو دیکھ لیجیے، کس کمال درجہ خوبصورتی کے ساتھ یہ لکھنے، بنانے اور سنوارنے پر قادر ہیں اور ان سب کے ساتھ ساتھ انسان کا ذہن ہے جو اسے ہر آن سوچنے سمجھنے اور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ان تمام باتوں کو سامنے رکھ کر اگر ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا انسان کا اپنا وجود ایک خالق کے وجود اور اس کی عظیم کاریگری کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے؟ تو ہمارے دل کی گہرائیوں سے یہی آواز آئے گی کہ یقینا یہ ایک عظیم و اعلیٰ خالق کی کاریگری ہے، جس کے وجود کا واضح ثبوت خود انسان کی اپنی ذات ہی میں موجود ہے۔ [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت