فهرس الكتاب

الصفحة 159 من 277

نواقض اسلام

نواقض اسلام سے مراد وہ کام ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا ارتکاب مسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ کیلئے جہنمی ہوتا ہے۔إلا یہ کہ وہ توبہ کرلے اور نئے سرے سے اسلام قبول کرلے تو اللہ تعالیٰ سچی توبہ کے بعد پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

الشیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں:

''جان لو کہ ایسے نواقض اسلام دس ہیں:

1.اللہ کی عبادت میں شرک کرنا۔یعنی عبادات میں سے کوئی عبادت اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے کرنا مثلا غیر اللہ کو مدد کیلئے پکارنا،غیر اللہ سے مانگنا،غیر اللہ کیلئے جانور ذبح کرنا یا نذرونیاز ماننا اور غیر اللہ کیلئے رکوع وسجود کرنا وغیرہ۔

فرمانِ الٰہی ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِیْدًا} [النساء:۱۱۶]

ترجمہ:''بے شک اﷲ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرتا اور اس کے علاوہ دیگر گناہوں کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔اور جو شخص اﷲ کے ساتھ شریک بناتا ہے وہ بہت دور کی گمراہی میں چلا جاتا ہے۔''

نیز فرمایا: {اِنَّہُ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ} [المائدۃ:۷۲]

ترجمہ:''یقین مانو کہ جو شخص اﷲ کے ساتھ شرک کرتا ہے اﷲ تعالیٰ نے اس پر جنت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت